حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنَاعِيَاضٌ. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِلَالِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، قَالَ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ زَادَ أَمْ نَقَصَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ فَإِذَا أَتَاهُ الشَّيْطَانُ، فَقَالَ: إِنَّكَ قَدْ أَحْدَثْتَ، فَلْيَقُلْ: كَذَبْتَ إِلَّا مَا وَجَدَ رِيحًا بِأَنْفِهِ أَوْ صَوْتًا بِأُذُنِهِ. وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبَانَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وقَالَ مَعْمَرٌ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، وعِيَاضُ بْنُ هِلَالٍ: وقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: عِيَاضُ بْنُ أَبِي زُهَيْرٍ.
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے اور یہ نہ جان سکے کہ زیادہ پڑھی ہے یا کم تو بیٹھ کر دو سجدے کرلے ١ ؎ پھر اگر اس کے پاس شیطان آئے اور اس سے کہے (یعنی دل میں وسوسہ ڈالے) کہ تو نے حدث کرلیا ہے تو اس سے کہے : تو جھوٹا ہے مگر یہ کہ وہ اپنی ناک سے بو سونگھ لے یا اپنے کان سے آواز سن لے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ١٧٩ (٣٩٦) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٢٩ (١٢٠٤) ، (تحفة الأشراف : ٤٣٩٦) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٥٧١) ، سنن النسائی/السہو ٢٤ (١٢٤٠) ، موطا امام مالک/الصلاة ١٦ (٦٢) ، مسند احمد (٣/١٢، ٣٧، ٥٠، ٥١، ٥٣، ٥٤) ، دی/الصلاة ١٧٤ (١٥٣٦) (ضعیف) (ہلال بن عیاض مجہول راوی ہیں، مگر ابوہریرہ کی حدیث (١٠٣٠) نیز دیگر صحیح احادیث سے اسے تقویت ہو رہی ہے ) وضاحت : ١ ؎ : ابو سعید خدری (رض) کی یہ حدیث اور ابوہریرہ (رض) کی اگلی حدیث دونوں مجمل ہیں، انہیں کی دیگر روایات سے یہ ثابت ہے کہ تلاش و تحری کر کے یقینی پہلو پر بنا کرے، یا ہر حال میں کم پر ہی بنا کرے باقی رکعت پوری کر کے سجدہ سہو کرے ، خالی سجدہ سہو کافی نہیں ہے ، بعض سلف نے کہا ہے : یہ اس کے لئے ہے جس کو ہمیشہ شک ہوجاتا ہے۔ ٢ ؎ : یعنی اسے یقین ہوجائے کہ حدث ہوگیا ہے تو وضو ٹوٹ جائے گا۔