حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَيُونُسَ، وَحَبِيبٍ، وَيَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ، وَهِشَامٍ فِي آخَرِينَ، عَنْمُحَمَّدٍ، أَنَّ أُمَّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) أَنْ نُخْرِجَ ذَوَاتِ الْخُدُورِ يَوْمَ الْعِيدِقِيلَ: فَالْحُيَّضُ ؟ قَالَ: لِيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَقَالَ: فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ لَمْ يَكُنْ لِإِحْدَاهُنَّ ثَوْبٌ كَيْفَ تَصْنَعُ ؟ قَالَ: تُلْبِسُهَا صَاحِبَتُهَا طَائِفَةً مِنْ ثَوْبِهَا.
ام عطیہ (رض) کہتی ہیں : ہم کو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ہم پردہ نشین عورتوں کو عید کے دن (عید گاہ) لے جائیں، آپ سے پوچھا گیا : حائضہ عورتوں کا کیا حکم ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : خیر میں اور مسلمانوں کی دعا میں چاہیئے کہ وہ بھی حاضر رہیں ، ایک خاتون نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اگر ان میں سے کسی کے پاس کپڑا نہ ہو تو وہ کیا کرے ؟ آپ نے فرمایا : اس کی سہیلی اپنے کپڑے کا کچھ حصہ اسے اڑھا لے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحیض ٢٣ (٣٢٤) ، والصلاة ٢ (٣٥١) ، والعیدین ١٥ (٩٧٤) ، ٢٠ (٩٨٠) ، ٢١ (٩٨١) ، والحج ٨١ (١٦٥٢) ، صحیح مسلم/العیدین ١ (٨٩٠) ، والجھاد ٤٨ (١٨١٢) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٧١ (٥٣٩) ، سنن النسائی/الحیض والاستحاضہ ٢٢ (٣٩٠) ، والعیدین ٢ (١٥٥٩) ، ٣ (١٥٦٠) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٦٥ (١٣٠٨) ، (تحفة الأشراف : (١٨٠٩٥، ١٨١٠١، ١٨١١٠، ١٨١١٢، ١٨١١٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٨٤، ٨٥) ، سنن الدارمی/الصلاة ٢٢٣ (١٦٥٠) (صحیح )