حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْمِسْحَاجِ بْنِ مُوسَى، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، قَالَ: كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) فِي السَّفَرِ، فَقُلْنَا: زَالَتِ الشَّمْسُ أَوْ لَمْ تَزُلْ، صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ ارْتَحَلَ.
مسحاج بن موسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک (رض) سے کہا : ہم سے آپ کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہو، انہوں نے کہا : جب ہم لوگ سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہوتے تو ہم کہتے : سورج ڈھل گیا یا نہیں ١ ؎ تو آپ ظہر پڑھتے پھر کوچ کرتے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥٨٦) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ١٥ (١١١١) ، ١٦ (١١١٢) ، صحیح مسلم/المسافرین ٥ (٧٠٤) ، سنن النسائی/المواقیت ٤١ (٥٨٧) ، مسند احمد (٣/ ١١٣، ٢٤٧، ٢٦٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس سے معلوم ہوا کہ اگر امام کو وقت ہوجانے کا یقین ہے تو مقتدیوں کے شک کا کوئی اعتبار نہ ہوگا۔