حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَفَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَقُلْنَا: هَلْ أَقَمْتُمْ بِهَا شَيْئًا ؟ قَالَ: أَقَمْنَا بِهَا عَشْرًا.
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے، آپ (اس سفر میں) دو رکعتیں پڑھتے رہے، یہاں تک کہ ہم مدینہ واپس آگئے تو ہم لوگوں نے پوچھا : کیا آپ لوگ مکہ میں کچھ ٹھہرے ؟ انہوں نے جواب دیا : مکہ میں ہمارا قیام دس دن رہا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ١ (١٠٨١) ، والمغازي ٥٢ (٤٢٩٧) ، صحیح مسلم/المسافرین ١ (٦٩٣) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٥ (الجمعة ٤٠) (٥٤٨) ، سنن النسائی/تقصیر الصلاة ١ (١٤٣٧) ، ٤ (١٤٥١) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٧٦ (١٠٧٧) ، مسند احمد (٣/١٨٧، ١٩٠، ٢٨٢) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٠ (١٥٥١) ، (تحفة الأشراف : ١٦٥٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ حدیث حجۃ الوداع کے سفر کے بارے میں ہے ، اور ابن عباس (رض) کی حدیث فتح مکہ کے بارے میں ہے۔