حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَهَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) يُصَلِّي الضُّحَى ؟ فَقَالَتْ: لَا، إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ، قُلْتُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) يَقْرِنُ بَيْنَ السُّورَتَيْنِ ؟ قَالَتْ: مِنَ الْمُفَصَّلِ.
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے پوچھا : کیا رسول اللہ ﷺ چاشت کی نماز پڑھتے تھے ؟ انہوں نے کہا : نہیں، سوائے اس کے کہ جب آپ سفر سے آتے۔ میں نے عرض کیا : کیا رسول اللہ ﷺ دو سورتیں ملا کر پڑھتے تھے ؟ آپ نے کہا : مفصل کی سورتیں (ملا کر پڑھتے تھے) ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ١٣ (٧١٧) ، سنن النسائی/الصیام ١٩ (٢١٨٧) ، (تحفة الأشراف : ١٦٢١١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٧١، ٢٠٤ ، ٢١٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ” سورة الحجرات “ سے ” سورة الناس “ تک کی سورتیں مفصل کہلاتی ہیں۔