حَدَّثَنَا ابْنُ حَنْبَلٍ يَعْنِي أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ الْخَثْعَمِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) سُئِلَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ: طُولُ الْقِيَامِ.
عبداللہ بن حبشی خثعمی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا : کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : (نماز میں) دیر تک کھڑے رہنا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الزکاة ٤٩ (٢٥٢٧) ، والإیمان وشرا ئعہ ١ (٤٩٨٩) ، (تحفة الأشراف : ٥٢٤١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤١٢) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٣٥ (١٤٦٤) ، ویأتي برقم : (١٤٤٩) (صحیح) بلفظ أي الصلاة وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک لمبی نماز پڑھنی زیادہ رکعتیں پڑھنے سے افضل اور بہتر ہے، قیام کو لمبا کرنا کثرت سجود سے افضل اور بہتر ہے۔