حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنِ بْنُ يَحْيَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، لَمْ يَذْكُرْ: فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: ارْفَعْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا، وَلِعُمَرَ: اخْفِضْ شَيْئًا، زَادَ: وَقَدْ سَمِعْتُكَ يَا بِلَالُ وَأَنْتَ تَقْرَأُ مِنْ هَذِهِ السُّورَةِ، وَمِنْ هَذِهِ السُّورَةِقَالَ: كَلَامٌ طَيِّبٌ يَجْمَعُ اللَّهُ تَعَالَى بَعْضَهُ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): كُلُّكُمْ قَدْ أَصَابَ.
ابوہریرہ (رض) سے بھی یہی واقعہ مرفوعاً مروی ہے اس میں فقال لأبي بكر : ارفع من صوتک شيئًا ولعمر اخفض شيئًا کے جملہ کا ذکر نہیں اور یہ اضافہ ہے : اے بلال ! میں نے تم کو سنا ہے کہ تم تھوڑا اس سورة سے پڑھتے ہو اور تھوڑا اس سورة سے ، بلال (رض) نے کہا : ایک پاکیزہ کلام ہے، اللہ بعض کو بعض کے ساتھ ملاتا ہے، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم سب نے ٹھیک کیا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥٠٠٤) (حسن )