حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: كَيْفَ كَانَ عَمَلُ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) ؟ هَلْ كَانَ يَخُصُّ شَيْئًا مِنَ الْأَيَّامِ ؟ قَالَتْ: لَا، كَانَ كُلُّ عَمَلِهِ دِيمَةًوَأَيُّكُمْ يَسْتَطِيعُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) يَسْتَطِيعُ ؟.
علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے پوچھا : رسول اللہ ﷺ کے عمل کا حال کیسا تھا ؟ کیا آپ عمل کے لیے کچھ دن خاص کرلیتے تھے ؟ انہوں نے کہا : نہیں، آپ ﷺ کا ہر عمل مداومت و پابندی کے ساتھ ہوتا تھا اور تم میں کون اتنی طاقت رکھتا ہے جتنی رسول اللہ ﷺ رکھتے تھے ؟۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الرقاق ١٨ (٦٤٦٦) ، صحیح مسلم/المسافرین ٣٠ (٧٨٣) ، سنن الترمذی/الشمائل (٣١٠) ، (تحفة الأشراف : ١٧٤٠٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٤٣، ٥٥، ١٧٤، ١٨٩، ٢٧٨) (صحیح )