حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ، عَنْ الْأَعْمَشِ،عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) بِمَعْنَاهُ، زَادَ: فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا تَقُولُ ؟ فَقَالَ: لَيْسَ لَكَ، وَلَا لِأَصْحَابِكَ.
عبداللہ بن مسعود (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس میں اتنا مزید ہے : ایک اعرابی نے کہا : آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟ تو عبداللہ بن مسعود نے کہا : یہ حکم تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے لیے نہیں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١١٤ (١١٧٠) ، (تحفة الأشراف : ٩٦٢٧) (صحیح) (متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث بھی صحیح ہے ورنہ ابوعبیدہ کا اپنے والد ابن مسعود (رض) سے سماع نہیں ہے )