حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ، أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُ، أَنَّهُسَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، يَقُولُ: سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) رَجُلًا يَدْعُو فِي صَلَاتِهِ لَمْ يُمَجِّدِ اللَّهَ تَعَالَى، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ (ﷺ)، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): عَجِلَ هَذَاثُمَّ دَعَاهُ، فَقَالَ لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِتَحْمِيدِ رَبِّهِ جَلَّ وَعَزَّ وَالثَّنَاءِ عَلَيْهِ، ثُمَّ يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ (ﷺ)، ثُمَّ يَدْعُو بَعْدُ بِمَا شَاءَ.
صحابی رسول فضالہ بن عبید (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو نماز میں دعا کرتے سنا، اس نے نہ تو اللہ تعالیٰ کی بزرگی بیان کی اور نہ ہی نبی اکرم ﷺ پر درود (نماز) بھیجا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس شخص نے جلد بازی سے کام لیا ، پھر اسے بلایا اور اس سے یا کسی اور سے فرمایا : جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو پہلے اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرے، پھر نبی اکرم ﷺ پر درود (نماز) بھیجے، اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الدعوات ٦٥ (٣٤٧٧) ، سنن النسائی/السہو ٤٨ (١٢٨٥) ، (تحفة الأشراف : ١١٠٣١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٨) (صحیح )