حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: سُرِقَتْ مِلْحَفَةٌ لَهَا، فَجَعَلَتْ تَدْعُو عَلَى مَنْ سَرَقَهَا، فَجَعَلَ النَّبِيُّ (ﷺ)، يَقُولُ: لَا تُسَبِّخِي عَنْهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: لَا تُسَبِّخِي: أَيْ لَا تُخَفِّفِي عَنْهُ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ ان کا ایک لحاف چرا لیا گیا تو وہ اس کے چور پر بد دعا کرنے لگیں تو رسول اللہ ﷺ فرمانے لگے : تم اس کے گناہ میں کمی نہ کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : لا تسبخي کا مطلب ہے لا تخففي عنه یعنی اس کے گناہ میں تخفیف نہ کرو۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٧٣٧٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٤٥، ١٣٦) ، ویأتي برقم (٤٩٠٩) (حسن) (ملاحظہ ہو : ضعیف ابی داود ٢/٩٠، والصحیحة : ٣٤١٣ )