حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، وَعَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، قَالَ: تَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ)، فَذَكَرَ هَذِهِ الْقِصَّةَ، قَالَ: فَأَتَيْنَا النَّاسَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يُصَلِّ بِهِمُ الصُّبْحَ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيَّ (ﷺ)، أَرَادَ أَنْ يَتَأَخَّرَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ يَمْضِيَ، قَالَ: فَصَلَّيْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّ (ﷺ) خَلْفَهُ رَكْعَةً، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَامَ النَّبِيُّ (ﷺ) فَصَلَّى الرَّكْعَةَ الَّتِي سُبِقَ بِهَا وَلَمْ يَزِدْ عَلَيْهَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، وَابْنُ الزُّبَيْرِ، وَابْنُ عُمَرَ، يَقُولُونَ: مَنْ أَدْرَكَ الْفَرْدَ مِنَ الصَّلَاةِ عَلَيْهِ سَجْدَتَا السَّهْوِ.
مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (سفر میں لوگوں کی جماعت سے) پیچھے رہ گئے، پھر انہوں نے اسی واقعہ کا ذکر کیا۔ مغیرہ کہتے ہیں : جب ہم لوگوں کے پاس آئے تو عبدالرحمٰن بن عوف (رض) انہیں صبح کی نماز پڑھا رہے تھے، جب انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا، تو پیچھے ہٹنا چاہا، آپ ﷺ نے انہیں نماز جاری رکھنے کا اشارہ کیا۔ مغیرہ کہتے ہیں : تو میں نے اور نبی اکرم ﷺ نے عبدالرحمٰن بن عوف کے پیچھے ایک رکعت پڑھی، اور جب انہوں نے سلام پھیرا تو آپ ﷺ نے اٹھ کر وہ رکعت ادا کی جو رہ گئی تھی، اس سے زیادہ کچھ نہیں پڑھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابو سعید خدری، ابن زبیر، اور ابن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں : جو شخص امام کے ساتھ نماز کی طاق رکعت پائے، تو اس پر سہو کے دو سجدے ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ١١٤٩٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : علامہ البانی نے اس اثر کو ضعیف کہا ہے، اس لئے اس سے استدلال درست نہیں ہے، جمہور نے اس کو رد کردیا ہے۔