حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ) بَعَثَ رَجُلًا عَلَى الصَّدَقَةِ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ، فَقَالَ لِأَبِي رَافِعٍ: اصْحَبْنِي فَإِنَّكَ تُصِيبُ مِنْهَا، قَالَ: حَتَّى آتِيَ النَّبِيَّ (ﷺ) فَأَسْأَلَهُ، فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَإِنَّا لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ.
ابورافع (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا، اس نے ابورافع سے کہا : میرے ساتھ چلو اس میں سے کچھ تمہیں بھی مل جائے گا، انہوں نے کہا : میں رسول اللہ ﷺ کے پاس جا کر پوچھ لوں، چناچہ وہ آپ کے پاس آئے اور دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : قوم کا غلام انہیں ١ ؎ میں سے ہوتا ہے اور ہمارے لیے صدقہ لینا حلال نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الزکاة ٢٥ (٦٥٧) ، سنن النسائی/الزکاة ٩٧ (٢٦١٣) ، ( تحفة الأشراف : ١٦٥٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٠، ٣٩٠، ١٢٠١٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ابو رافع رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے لہٰذا وہ بھی بنی ہاشم میں سے ہوئے، اس لئے ان کے لئے بھی صدقہ لینا جائز نہیں ہوا۔