حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ بُجَيْدٍوَكَانَتْ مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، أَنَّهَا قَالَتْ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ، إِنَّ الْمِسْكِينَ لَيَقُومُ عَلَى بَابِي فَمَا أَجِدُ لَهُ شَيْئًا أُعْطِيهِ إِيَّاهُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): إِنْ لَمْ تَجِدِي لَهُ شَيْئًا تُعْطِينَهُ إِيَّاهُ إِلَّا ظِلْفًا مُحْرَقًا فَادْفَعِيهِ إِلَيْهِ فِي يَدِهِ.
ام بجید (رض) یہ ان لوگوں میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تھی، وہ کہتی ہیں میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے دروازے پر مسکین کھڑا ہوتا ہے لیکن میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی جو میں اسے دوں، رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : اگر تمہیں کوئی ایسی چیز نہ ملے جو تم اسے دے سکو سوائے ایک جلے ہوئے کھر کے تو وہی اس کے ہاتھ میں دے دو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الزکاة ٢٩ (٦٦٥) ، سنن النسائی/الزکاة ٧٠ (٢٥٦٦) ( تحفة الأشراف : ١٨٣٠٥) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/صفة النبی ٥ (٨) ، مسند احمد (٤/٧٠) (صحیح )