حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ (ﷺ) يُهِلُّ مُلَبِّدًا.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو تلبیہ پڑھتے سنا اور آپ اپنے سر کی تلبید ١ ؎ کئے ہوئے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ١٩ (١٥٤٠) ، واللباس ٦٩ (٥٩١٤) ، صحیح مسلم/الحج ٣ (١١٨٤) ، سنن النسائی/المناسک ٤٠ (٢٦٨٤) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ٧٢ (٣٠٤٧) ، ( تحفة الأشراف : ٦٩٧٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٢١، ١٣١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ” تلبيد “: بالوں کو گوند وغیرہ سے جما لینے کو تلبید کہتے ہیں، تاکہ وہ گرد و غبار نیز بکھرنے سے محفوظ رہیں۔