حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ) قَبَّلَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، قَالَ عُرْوَةُ: مَنْ هِيَ إِلَّا أَنْتِ، فَضَحِكَتْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَكَذَا رَوَاهُ زَائِدَةُ، وَعَبْدُ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ،عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی ایک بیوی کا بوسہ لیا، پھر نماز کے لیے نکلے اور (پھر سے) وضو نہیں کیا۔ عروہ کہتے ہیں : میں نے ان سے کہا : وہ بیوی آپ کے علاوہ اور کون ہوسکتی ہیں ؟ یہ سن کر وہ ہنسنے لگیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ١٧٣٧١) (صحیح )