حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ. ح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنِ خَلَّادٍ، حَدَّثَنَايَحْيَى الْمَعْنَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ،أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَأَخْبَرَهُ، قَالَ: قَصَّرْتُ عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) بِمِشْقَصٍ عَلَى الْمَرْوَةِ، أَوْ رَأَيْتُهُ يُقَصِّرُ عَنْهُ عَلَى الْمَرْوَةِ بِمِشْقَصٍ. قَالَ ابْنُ خَلَّادٍ: إِنَّ مُعَاوِيَةَ لَمْ يَذْكُرْ أَخْبَرَهُ.
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان (رض) نے انہیں خبر دی، وہ کہتے ہیں : میں نے مروہ پر نبی اکرم ﷺ کے بال تیر کی دھار سے کاٹے، (یا یوں ہے) میں نے آپ کو دیکھا کہ مروہ پر تیر کے پیکان سے آپ کے بال کترے جا رہے ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ١٢٧ (١٧٣٠) (إلی قولہ : ” بمشقص “ )، صحیح مسلم/الحج ٣٣ (١٢٤٦) ، سنن النسائی/الحج ٥٠ (٢٧٣٨) ، ١٨٣ (٢٩٩٠) ، ( تحفة الأشراف : ١١٤٢٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٩٦، ٩٧، ٩٨، ١٠٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : صحیح بخاری میں صرف اتنا ہے کہ ” میں نے آپ ﷺ کے بال تیر کی دھار سے کاٹے “ ، اس جملے سے کوئی اشکال نہیں پیدا ہوتا، مگر صحیح مسلم و دیگر کے الفاظ ” مروہ پر “ سے یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ آپ ﷺ قارن تھے تو عمرہ کے بعد مروہ پر بال کاٹنے کا کیا مطلب ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ معاملہ عمرہ جعرانہ کا ہے نہ کہ حجۃ الوداع کا، جیسا کہ علماء نے تصریح کی ہے۔