حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ (ﷺ)، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا شَأْنُ النَّاسِ قَدْ حَلُّوا وَلَمْ تُحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ ؟ فَقَالَ: إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلَا أُحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ الْهَدْيَ.
ام المؤمنین حفصہ (رض) کہتی ہیں کہ انہوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا وجہ ہے کہ لوگوں نے احرام کھول دیا لیکن آپ نے اپنے عمرے کا احرام نہیں کھولا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : میں نے اپنے سر میں تلبید کی تھی اور ہدی کو قلادہ پہنایا تھا تو میں اس وقت تک حلال نہیں ہوسکتا جب تک کہ ہدی نحر نہ کرلوں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٣٤ (١٥٦٦) ، والمغازي ٧٧ (٤٣٩٨) ، واللباس ٦٩ (٥٩١٦) ، صحیح مسلم/الحج ٢٥ (١٢٢٩) ، سنن النسائی/الحج ٤٠ (٢٦٨١) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ٧٢ (٣٠٤٦) ، ( تحفة الأشراف : ١٥٨٠٠) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الحج ٥٨ (١٨٠) ، مسند احمد (٦/٢٨٣، ٢٨٤، ٢٧٥) (صحیح )