حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَقُولُ: لَمَّا صَالَحَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) أَهْلَ الْحُدَيْبِيَةِ، صَالَحَهُمْ عَلَى أَنْ لَا يَدْخُلُوهَا إِلَّا بِجُلْبَانِ السِّلَاحِ، فَسَأَلْتُهُ: مَا جُلْبَانُ السِّلَاحِ ؟، قَالَ: الْقِرَابُ بِمَا فِيهِ.
براء (رض) کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ والوں سے صلح کی تو آپ نے ان سے اس شرط پر مصالحت کی کہ مسلمان مکہ میں جلبان السلاح کے ساتھ ہی داخل ہوں گے ١ ؎ تو میں نے ان سے پوچھا : جلبان السلاح کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : جلبان السلاح میان کا نام ہے اس چیز سمیت جو اس میں ہو۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/جزاء الصید ١٧ (١٨٤٤) ، والصلح ٦ (٢٦٩٨) ، والجزیة ١٩ (٣١٨٤) ، والمغازي ٤٣ (٤٢٥١) ، صحیح مسلم/الجہاد ٣٤ (١٧٨٣) ، ( تحفة الأشراف : ١٨٧١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٩، ٤/٢٨٩، ٢٩١) ، سنن الدارمی/السیر ٦٤ (٢٥٤٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی ان کی تلواریں میان کے اندر ہی رہیں گی۔