حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الطَّحَّانِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) مَرَّ بِهِ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، فَقَالَ: قَدْ آذَاكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ ؟قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): احْلِقْ ثُمَّ اذْبَحْ شَاةً نُسُكًا، أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ ثَلَاثَةَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ.
کعب بن عجرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ صلح حدیبیہ کے زمانے میں ان کے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تمہیں تمہارے سر کی جوؤں نے ایذا دی ہے ؟ کہا : ہاں، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سر منڈوا دو ، پھر ایک بکری ذبح کرو، یا تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کو تین صاع کھجور کھلاؤ ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المحصر ٥ (١٨١٤) ، ٦ (١٨١٥) ، ٧ (١٨١٦) ، ٨ (١٨١٧) ، والمغازي ٣٥ (٤١٥٩) ، و تفسیر البقرة ٣٢ (٤٥١٧) ، والمرضی ١٦ (٥٦٦٥) ، والطب ١٦ (٥٧٠٣) ، وکفارات الأیمان ١ (٦٨٠٨) ، صحیح مسلم/الحج ١٠ (١٢٠١) ، سنن الترمذی/الحج ١٠٧(٩٥٣) ، سنن النسائی/الحج ٩٦ (٢٨٥٤) ، (تحفة الأشراف : ١١١١٤) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/المناسک ٨٦ (٣٠٧٩) ، موطا امام مالک/الحج ٧٨ (٢٣٧) ، مسند احمد (٤/ ٢٤٢، ٢٤٣، ٢٤٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ حدیث آیت کریمہ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضاً أَوْ بِهِ أَذًى مِّن رَّأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ (سورۃ بقرۃ : ١٩٦) کی تفسیر ہے۔