حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: أَصَابَنِي هَوَامُّ فِي رَأْسِي وَأَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ حَتَّى تَخَوَّفْتُ عَلَى بَصَرِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى فِيَّ: فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ سورة البقرة آية 196 الْآيَةَ، فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ)، فَقَالَ لِي: احْلِقْ رَأْسَكَ وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ فَرَقًا مِنْ زَبِيبٍ، أَوِ انْسُكْ شَاةً، فَحَلَقْتُ رَأْسِي ثُمَّ نَسَكْتُ. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مَالِكٍ الْجَزَرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، زَادَ: أَيُّ ذَلِكَ فَعَلْتَ أَجْزَأَ عَنْكَ.
کعب بن عجرہ (رض) کہتے ہیں کہ حدیبیہ کے سال میرے سر میں جوئیں پڑگئیں، میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا یہاں تک کہ مجھے اپنی بینائی جانے کا خوف ہوا تو اللہ تعالیٰ نے میرے سلسلے میں فمن کان منکم مريضا أو به أذى من رأسه کی آیت نازل فرمائی، تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے بلایا اور مجھ سے فرمایا : تم اپنا سر منڈوا لو اور تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کو ایک فرق ١ ؎ منقٰی کھلاؤ، یا پھر ایک بکری ذبح کرو چناچہ میں نے اپنا سر منڈوایا پھر ایک بکری کی قربانی دے دی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٨٥٦، ( تحفة الأشراف : ١١١١٤) (حسن) (لیکن منقی کا ذکر منکر ہے صحیح روایت کھجور کی ہے ) وضاحت : ١ ؎ : ” فرق “: ایک پیمانہ ہے جس میں چار صاع کی گنجائش ہوتی ہے۔ اس سند سے بھی کعب بن عجرہ (رض) سے یہی قصہ مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے أى ذلک فعلت أجزأ عنك اس میں سے تو جو بھی کرلو گے تمہارے لیے کافی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٨٥٦، ( تحفة الأشراف : ١١١١٤) (صحیح )