حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: سُئِلَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَأَنَا جَالِسٌ، كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) يَسِيرُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حِينَ دَفَعَ ؟ قَالَ: كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ، قَالَ هِشَامٌ: النَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ.
عروہ کہتے ہیں کہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ اسامہ بن زید (رض) سے سوال کیا گیا : رسول اللہ ﷺ حجۃ الوداع میں عرفات سے لوٹتے وقت کیسے چلتے تھے ؟ فرمایا : تیز چال چلتے تھے، اور جب راستہ پا جاتے تو دوڑتے۔ ہشام کہتے ہیں : نص ، عنق سے بھی زیادہ تیز چال کو کہتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٩٣ (١٦٦٦) ، والجہاد ١٣٦ (٢٩٩٩) ، والمغازي ٧٧ (٤٤١٣) ، صحیح مسلم/الحج ٤٧ (١٢٨٦) ، سنن النسائی/الحج ٢٠٥ (٣٠٢٦) ، ٢١٤ (٣٠٥٤) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ٥٨ (٣٠١٧) ، ( تحفة الأشراف : ١٠٤) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الحج ٥٧(١٧٦) ، مسند احمد (٥/٢٠٥، ٢١٠) ، سنن الدارمی/المناسک ٥١ (١٩٢٢) (صحیح )