حَدَّثَنَا ابْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: أَفَضْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ، فَلَمَّا بَلَغْنَا جَمْعًا صَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ ثَلَاثًا وَاثْنَتَيْنِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ لَنَا ابْنُ عُمَرَ: هَكَذَا صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) فِي هَذَا الْمَكَانِ.
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ہم (عرفات سے) ابن عمر (رض) کے ساتھ لوٹے، جب ہم جمع یعنی مزدلفہ پہنچے تو آپ نے ہمیں مغرب اور عشاء، تین رکعت مغرب کی اور دو رکعت عشاء کی ایک اقامت ١ ؎ سے پڑھائی، جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو ابن عمر (رض) نے ہم سے کہا : اسی طرح ہمیں رسول اللہ ﷺ نے اس جگہ پڑھائی تھی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم (١٩٣٠) ، ( تحفة الأشراف : ٧٠٥٢) (صحیح) (” ایک اقامت “ والی روایت شاذ ہے، ہر صلاة کے لئے الگ الگ اقامت ثابت ہے ) وضاحت : ١ ؎ : اس کے برخلاف جابر (رض) کی ایک روایت صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک اذان اور دو تکبیر سے دونوں نمازیں ادا کیں اور یہی راجح ہے، واللہ اعلم۔