حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يُفِيضُونَ حَتَّى يَرَوْا الشَّمْسَ عَلَى ثَبِيرٍ، فَخَالَفَهُمُ النَّبِيُّ (ﷺ) فَدَفَعَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ.
عمر بن خطاب (رض) کہتے ہیں کہ جاہلیت کے لوگ مزدلفہ سے نہیں لوٹتے تھے جب تک کہ سورج کو ثبیر ١ ؎ پر نہ دیکھ لیتے، چناچہ نبی اکرم ﷺ نے ان کی مخالفت کی اور سورج نکلنے سے پہلے ہی (مزدلفہ سے) چل پڑے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ١٠٠ (١٦٨٤) ، ومناقب الأنصار ٢٦ (٣٨٣٨) ، سنن الترمذی/الحج ٦٠ (٨٩٦) ، سنن النسائی/الحج ٢١٣ (٣٠٥٠) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ٦١ (٣٠٢٢) ، ( تحفة الأشراف : ١٠٦١٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١٤، ٢٩، ٣٩، ٤٢، ٥٠، ٥٢) ، سنن الدارمی/المناسک ٥٥ (١٩٣٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ” ثبير “: مزدلفہ میں ایک مشہور پہاڑی کا نام ہے۔