حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ الضَّحَّاكِ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: أَرْسَلَ النَّبِيُّ (ﷺ) بِأُمِّ سَلَمَةَ لَيْلَةَ النَّحْرِ فَرَمَتِ الْجَمْرَةَ قَبْلَ الْفَجْرِ ثُمَّ مَضَتْ فَأَفَاضَتْ وَكَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ الْيَوْمَ الَّذِي يَكُونُ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) تَعْنِي عِنْدَهَا.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ام سلمہ کو نحر کی رات (دسویں رات) کو (منیٰ کی طرف) روانہ فرما دیا انہوں نے فجر سے پہلے کنکریاں مار لیں پھر مکہ جا کر طواف افاضہ کیا، اور یہ وہ دن تھا جس دن رسول اللہ ﷺ ان کے پاس رہا کرتے تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ١٦٩٦١) (ضعیف) (اس میں ضحاک ضعیف الحفظ ہیں، اور سند ومتن میں اضطراب ہے، ثقات کے روایت میں عائشہ (رض) کا ذکر نہیں ہے، ملاحظہ ہو : ضعیف ابی داود ٢ ؍ ١٧٧ ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی یہ ام المومنین ام سلمہ (رض) کی باری کا دن تھا۔