حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، قَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، أَرْدِفْ أُخْتَكَ عَائِشَةَ فَأَعْمِرْهَا مِنْ التَّنْعِيمِ فَإِذَا هَبَطْتَ بِهَا مِنَ الْأَكَمَةِ فَلْتُحْرِمْ فَإِنَّهَا عُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ.
عبدالرحمٰن بن ابی بکر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عبدالرحمٰن (رض) سے فرمایا : عبدالرحمٰن ! اپنی بہن عائشہ کو بٹھا کرلے جاؤ اور انہیں تنعیم ١ ؎ سے عمرہ کرا لاؤ، جب تم ٹیلوں سے تنعیم میں اترو تو چاہیئے کہ وہ احرام باندھے ہو، کیونکہ یہ مقبول عمرہ ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ٩٦٩١) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/العمرة ٦ (١٧٨٤) ، والجھاد ١٢٥ (٢٩٨٥) ، صحیح مسلم/الحج ١٧ (١٢١٢) ، سنن الترمذی/الحج ٩١ (٩٣٤) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ٤٨ (٢٩٩٩) ، مسند احمد (١/١٩٧، ١٩٨) ، سنن الدارمی/المناسک ٤١ (١٩٠٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ” تنعيم “ : ایک مقام ہے مکہ سے تین میل کے فاصلے پر، اب وہاں پر ایک مسجد بن گئی ہے جسے مسجد عائشہ کہتے ہیں، عمرہ کا احرام حرم سے باہر نکل کر باندھنا چاہیے، یہ مقام بہ نسبت دوسرے مقامات کے زیادہ قریب ہے اس لئے آپ ﷺ نے عائشہ (رض) کو وہیں سے عمرہ کرانے کا حکم دیا۔