حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَنْصَرِفُونَ فِي كُلِّ وَجْهٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): لَا يَنْفِرَنَّ أَحَدٌ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ لوگ ہر جانب سے (مکہ سے) لوٹتے تھے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کوئی بھی مکہ سے کوچ نہ کرے یہاں تک کہ اس کا آخری کام بیت اللہ کا طواف (طواف وداع) ہو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٦٧ (١٣٢٧) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ٨٢ (٣٠٧٠) ، سنن النسائی/ الکبری/ الحج (٤١٨٤) ، (تحفة الأشراف : ٥٧٠٣) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الحج ١٤٤ (١٧٥٥) ، مسند احمد (١/٢٢٢) ، سنن الدارمی/المناسک ٨٥ (١٩٧٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اسے طواف صدر یا طواف وداع کہتے ہیں، بعض اہل علم کے نزدیک یہ سنت ہے، اور بعض کے نزدیک واجب ، اگر عورت کو چلتے وقت حیض آجائے تو وہ یہ طواف چھوڑ دے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔