حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَسْأَلُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ: هَلْ سَمِعْتَ فِي الْإِقَامَةِ بِمَكَّةَ شَيْئًا ؟ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ الْحَضْرَمِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، يَقُولُ لِلْمُهَاجِرِينَ: إِقَامَةٌ بَعْدَ الصَّدْرِ ثَلَاثًا فِي الْكَعْبَة.
عبدالرحمٰن بن حمید سے روایت ہے کہ انہوں نے عمر بن عبدالعزیز کو سائب بن یزید سے پوچھتے سنا : کیا آپ نے مکہ میں رہائش اختیار کرنے کے سلسلے میں کچھ سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : مجھے ابن حضرمی نے خبر دی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : مہاجرین کے لیے حج کے احکام سے فراغت کے بعد تین دن تک مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/مناقب الأنصار ٤٧ (٣٩٣٣) ، صحیح مسلم/الحج ٨١ (١٣٥٢) ، سنن الترمذی/الحج ١٠٣ (٩٤٩) ، سنن النسائی/تقصیر الصلاة ٣ (١٤٥٥) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٧٦ (١٠٧٣) ، (تحفة الأشراف : ١١٠٠٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٣٩، ٥/٥٢) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٨ (١٢٤٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : تاکہ وہ اس دوران اپنی ضرورتیں پوری کرلیں اس سے زیادہ انہیں رکنے کی اجازت نہیں کیونکہ وہ اللہ کے لئے اس شہر کو خیرباد کہہ چکے ہیں۔