حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِنْسَانٍ الطَّائِفِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الزُّبَيْرِ، قَالَ: لَمَّا أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) مِنْ لِيَّةَ حَتَّى إِذَا كُنَّا عِنْدَ السِّدْرَةِ وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) فِي طَرَفِ الْقَرْنِ الْأَسْوَدِ حَذْوَهَا، فَاسْتَقْبَلَ نَخِبًا بِبَصَرِهِ، وقَالَ مَرَّةً: وَادِيَهُ، وَوَقَفَ حَتَّى اتَّقَفَ النَّاسُ كُلُّهُمْ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ صَيْدَ وَجٍّ وَعِضَاهَهُ حَرَامٌ مُحَرَّمٌ لِلَّهِ، وَذَلِكَ قَبْلَ نُزُولِهِ الطَّائِفَ وَحِصَارِهِ لِثَقِيفٍ.
زبیر (رض) کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ لیّۃ ١ ؎ سے لوٹے اور بیری کے درخت کے پاس پہنچے تو رسول اللہ ﷺ قرن اسود ٢ ؎ کے دامن میں اس کے بالمقابل کھڑے ہوئے پھر اپنی نگاہ سے نخب ٣ ؎ کا استقبال کیا (اور راوی نے کبھی ( نخبا کے بجائے واديه کا لفظ کہا) اور ٹھہر گئے تو سارے لوگ ٹھہر گئے تو فرمایا : صیدوج ٤ ؎ اور اس کے درخت محترم ہیں، اللہ کی طرف سے محترم قرار دیئے گئے ہیں ، یہ آپ ﷺ کے طائف میں اترنے اور ثقیف کا محاصرہ کرنے سے پہلے کی بات ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ٣٦٤٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١٦٥) (ضعیف) (اس کے راوی محمد اور عبداللہ دونوں ضعیف ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : ایک پہاڑ کا نام ہے جو طائف سے قریب ہے۔ ٢ ؎ : حجاز میں ایک پہاڑ کا نام ہے۔ ٣ ؎ : ایک جگہ کا نام ہے۔ ٤ ؎ : طائف میں ایک وادی کا نام ہے ۔