حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): أَتَزَوَّجْتَ ؟قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا، فَقُلْتُ: ثَيِّبًا، قَالَ: أَفَلَا بِكْرٌ تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ ؟. قَالَ أَبُو دَاوُد: كَتَبَ إِلَيَّ حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيُّ،
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : کیا تم نے شادی کرلی ؟ میں نے کہا : ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا : کنواری سے یا غیر کنواری سے ؟ میں نے کہا غیر کنواری سے، آپ ﷺ نے فرمایا : کنواری سے کیوں نہیں کی تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ٢٢٤٨) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/البیوع ٣٤ (٢٠٩٧) ، الوکالة ٨ (٢٣٠٩) ، الجہاد ١١٣ (٢٩٦٧) ، المغازي ١٨ (٤٠٥٢) ، النکاح ١٠ (٥٠٧٩) ، ١٢١ (٥٢٤٥) ، ١٢٢ (٥٢٤٧) ، النفقات ١٢ (٥٣٦٧) ، الدعوات ٥٣ (٦٣٨٧) ، صحیح مسلم/الرضاع ١٦ (٧١٥) ، سنن الترمذی/النکاح ١٣ (١١٠٠) ، سنن النسائی/النکاح ٦ (٣٢٢١) ، ١٠ (٣٢٣٦) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٧ (١٨٦٠) ، مسند احمد (٣ /٢٩٤، ٣٠٢، ٣٠٨، ٣١٤، ٣٦٢، ٣٦٩، ٣٧٤، ٣٧٦) ، سنن الدارمی/النکاح ٣٢ (٢٢٦٢) (صحیح )