حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، أن رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ، قَالَ حَفْصٌ: فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ ثُمَّ اتَّفَقَا، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَقَالَ: انْظُرْنَ مَنْ إِخْوَانُكُنَّ، فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول ﷺ ان کے پاس تشریف لائے، ان کے پاس ایک شخص بیٹھا ہوا تھا، (حفص کی روایت میں ہے) آپ ﷺ کو یہ بات ناگوار گزری، آپ کا چہرہ متغیر ہوگیا (پھر حفص اور شعبہ دونوں کی روایتیں متفق ہیں) عائشہ (رض) نے کہا : اللہ کے رسول یہ تو میرا رضاعی بھائی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : اچھی طرح دیکھ لو کون تمہارے بھائی ہیں ؟ کیونکہ رضاعت تو غذا سے ثابت ہوتی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الشہادات ٧ (٢٦٤٧) ، والنکاح ٢٢ (٥١٠٢) ، صحیح مسلم/الرضاع ٨ (١٤٥٥) ، سنن النسائی/النکاح ٥١ (٣٣١٤) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٣٧ (١٩٤٥) ، (تحفة الأشراف : ١٧٦٥٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/ ٩٤، ١٣٨، ١٧٤، ٢٤١) ، سنن الدارمی/النکاح ٥٢ (٢٣٠٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی حرمت اس رضاعت سے ثابت ہوتی ہے جو بچپن کی ہو اور دودھ ہی اس کی غذا ہو۔