حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، قَالَ: لَا تُنْكَحُ الثَّيِّبُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلَا الْبِكْرُ إِلَّا بِإِذْنِهَا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا إِذْنُهَا ؟ قَالَ: أَنْ تَسْكُتَ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : غیر کنواری عورت کا نکاح نہ کیا جائے جب تک اس سے پوچھ نہ لیا جائے، اور نہ ہی کنواری عورت کا نکاح بغیر اس کی اجازت کے کیا جائے ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس کی اجازت کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : (اس کی اجازت یہ ہے کہ) وہ خاموش رہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابوداود، ( تحفة الأشراف : ١٥٣٥٨) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/النکاح ٤١ (٥١٣٦) ، والحیل ١١ (٦٩٧٠) ، صحیح مسلم/النکاح ٩ (١٤١٩) ، سنن الترمذی/النکاح ١٨ (١١٠٧، ١١٠٨) ، سنن النسائی/النکاح ٣٤ (٣٢٦٩) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ١١ (١٨٧١) ، مسند احمد (٢/٢٢٩، ٢٥٠، ٤٢٥، ٤٣٤) ، سنن الدارمی/النکاح ١٣ (٢٢٣٢) (صحیح )