حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَبَا هِنْدٍ حَجَمَ النَّبِيَّ (ﷺ) فِي الْيَافُوخِ، فَقَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): يَا بَنِي بَيَاضَةَ، أَنْكِحُوا أَبَا هِنْدٍ وَأَنْكِحُوا إِلَيْهِ، وَقَالَ: وَإِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِمَّا تَدَاوُونَ بِهِ خَيْرٌ، فَالْحِجَامَةُ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ابوہند نے نبی اکرم ﷺ کی چندیا میں پچھنا لگایا تو آپ نے فرمایا : بنی بیاضہ کے لوگو ! ابوہند سے تم (اپنی بچیوں کی) شادی کرو اور (ان کی بچیوں سے شادی کرنے کے لیے) تم انہیں نکاح کا پیغام دو ١ ؎، اور فرمایا : تین چیزوں سے تم علاج کرتے ہو اگر ان میں کسی چیز میں خیر ہے تو وہ پچھنا لگانا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ١٥٠١٩) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الطب ٢٠ (٣٤٧٦) ، مسند احمد (٢/٣٤٢، ٤٢٣) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کفو میں اعتبار دین کا ہوگا نہ کہ نسب اور پیشہ وغیرہ کا۔