حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبِي حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ عِسْلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، نَحْوَ هَذِهِ الْقِصَّةِ، لَمْ يَذْكُرِ الْإِزَارَ وَالْخَاتَمَ، فَقَالَ: مَا تَحْفَظُ مِنَ الْقُرْآنِ ؟قَالَ: سُورَةَ الْبَقَرَةِ، أَوِ الَّتِي تَلِيهَا، قَالَ: فَقُمْ، فَعَلِّمْهَا عِشْرِينَ آيَةً وَهِيَ امْرَأَتُكَ.
ابوہریرہ (رض) سے بھی اسی واقعہ کی طرح مروی ہے لیکن اس میں تہبند اور انگوٹھی کا ذکر نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : تجھے قرآن میں سے کیا یاد ہے ؟ جواب دیا : سورة البقرہ یا اس کے بعد والی سورت تو آپ ﷺ نے فرمایا : جاؤ اسے بیس آیتیں سکھا دو اور وہ تمہاری بیوی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٤١٩٤) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/الکبری/ النکاح (٥٥٠٦) (ضعیف) (اس کے راوی عسل ضعیف ہیں )