حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا تَزَوَّجَ عَلِيٌّ فَاطِمَةَ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): أَعْطِهَا شَيْئًا، قَالَ: مَا عِنْدِي شَيْءٌ، قَالَ: أَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ جب علی (رض) نے فاطمہ (رض) سے شادی کی تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے کہا : اسے کچھ دے دو ، انہوں نے کہا : میرے پاس تو کچھ بھی نہیں، آپ ﷺ نے پوچھا : تمہاری حطمی زرہ ١ ؎ کہاں ہے ؟ ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/النکاح ٧٦ (٣٣٧٨) ، ( تحفة الأشراف : ٦٠٠٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٨) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ” حطمي “: زرہ ہے جو تلوار کو توڑ دے، یا حطمہ کوئی قبیلہ تھا جو زرہ بنایا کرتا تھا۔ ٢ ؎ : اس سے معلوم ہوا کہ شب زفاف (سہاگ رات) میں پہلی ملاقات کے وقت بیوی کو کچھ ہدیہ تحفہ دینا مستحب ہے۔