حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ (ﷺ)، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لِيُطَلِّقْهَا إِذَا طَهُرَتْ، أَوْ وَهِيَ حَامِلٌ.
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی تو عمر (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسے حکم دو کہ وہ رجوع کرلے پھر جب وہ پاک ہوجائے یا حاملہ ہو تو اسے طلاق دے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/ الطلاق ١ (١٤٧١) ، سنن الترمذی/الطلاق ١ (١١٧٦) ، سنن النسائی/الطلاق ٣ (٣٤٢٦) ، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٣ (٢٠٢٣) ، (تحفة الأشراف : ٦٧٩٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٦، ٥٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اگر حاملہ ہوگی تو اس کی عدت وضع حمل سے ختم ہوگی ورنہ تین حیض سے ختم ہوجائے گی۔