حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَمَّتِهِ سَلْمَى، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ) طَافَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى نِسَائِهِ يَغْتَسِلُ عِنْدَ هَذِهِ وَعِنْدَ هَذِهِ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَجْعَلُهُ غُسْلًا وَاحِدًا ؟ قَالَ: هَذَا أَزْكَى وَأَطْيَبُ وَأَطْهَرُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ أَنَسٍ أَصَحُّ مِنْ هَذَا.
ابورافع (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک دن اپنی بیویوں کے پاس گئے، ہر ایک کے پاس غسل کرتے تھے ١ ؎۔ ابورافع کہتے ہیں کہ میں نے آپ سے کہا : اللہ کے رسول ! ایک ہی بار غسل کیوں نہیں کرلیتے ؟ آپ نے فرمایا : یہ زیادہ پاکیزہ، عمدہ اور اچھا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : انس (رض) کی روایت اس سے زیادہ صحیح ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٠٢ (٥٩٠) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٣٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٨، ٩، ٣٩١) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی ہر ایک سے جماع کر کے غسل کرتے تھے۔ ٢ ؎ : یعنی اس سے پہلے والی حدیث (٢١٨) ۔