حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، وَعَنْأَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ بَرِيرَةَ أُعْتِقَتْ وَهِيَ عِنْدَ مُغِيثٍ عَبْدٍ لِآلِ أَبِي أَحْمَدَ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ)، وَقَالَ لَهَا: إِنْ قَرِبَكِ فَلَا خِيَارَ لَكِ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ بریرہ (رض) آزاد کی گئی اس وقت وہ آل ابواحمد کے غلام مغیث (رض) کے نکاح میں تھی تو رسول اللہ ﷺ نے اسے اختیار دیا اور اس سے کہا : اگر اس نے تجھ سے صحبت کرلی تو پھر تجھے اختیار حاصل نہیں رہے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود ، (تحفة الأشراف : ١٧١٨٤، ١٩٢٦٠) (حسن )