حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ سورة البقرة آية 240، فَنُسِخَ ذَلِكَ بِآيَةِ الْمِيرَاثِ بِمَا فُرَضَ لَهُنَّ مِنَ الرُّبُعِ وَالثُّمُنِ، وَنُسِخَ أَجَلُ الْحَوْلِ بِأَنْ جُعِلَ أَجَلُهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا.
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ اللہ کا فرمان والذين يتوفون منکم ويذرون أزواجا وصية لأزواجهم متاعا إلى الحول غير إخراج اور تم میں سے جو لوگ فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ وصیت کر جائیں کہ ان کی بیویاں سال بھر تک فائدہ اٹھائیں انہیں کوئی نہ نکالے (سورۃ البقرہ : ٢٤٠) میراث کی آیت نازل ہوجانے کے بعد منسوخ ہوگیا کیونکہ اس میں ان کے لیے چوتھائی اور آٹھواں حصہ مقرر کردیا گیا ہے اسی طرح ایک سال تک نہ نکلنے کا حکم چار مہینے دس دن کی عدت کا حکم آجانے کے بعد منسوخ ہوگیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الطلاق ٦٩ (٣٥٧٣) ، (تحفة الأشراف : ٦٢٥٠، ١٩١١٤) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/التفسیر ٤١ (٤٥٣١) ، الطلاق ٥٠(٥٣٤٤) (حسن )