حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَسَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْأَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) قَالَ لِرَجُلٍ: هَلْ صُمْتَ مِنْ شَهْرِ شَعْبَانَ شَيْئًا ؟قَالَ: لَا، قَالَ: فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمًا، وَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَوْمَيْنِ.
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے پوچھا : کیا تم نے شعبان کے کچھ روزے رکھے ہیں ١ ؎؟ ، جواب دیا : نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : جب (رمضان کے) روزے رکھ چکو تو ایک روزہ اور رکھ لیا کرو ، ان دونوں میں کسی ایک راوی کی روایت میں ہے : دو روزے رکھ لیا کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ٦٢(١٩٨٣ تعلیقًا) ، صحیح مسلم/الصوم ٣٧ (١١٦١) ، (عندالجمیع : ” من سرر شعبان “ )، (تحفة الأشراف : ١٠٨٤٤، ١٠٨٥٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤٣٢، ٤٣٤، ٤٤٢، ٤٤٣، ٤٤٦) ، سنن الدارمی/الصوم ٣٥ (١١٨٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مؤلف کے سوا ہر ایک کے یہاں شهر (مہینہ) کی بجائے سرر (آخر ماہ) کا لفظ ہے ، بلکہ خود مؤلف کے بعض نسخوں میں بھی یہی لفظ ہے، اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ : ” اس آدمی کی عادت تھی کہ ہر مہینہ کے اخیر میں روزہ رکھا کرتا تھا، مگر رمضان سے ایک دو دن برائے استقبال رمضان روزہ کی ممانعت “ سن کر اس نے اپنے معمول والا یہ روزہ نہیں رکھا، تو آپ ﷺ نے اس کی غلط فہمی دور کرنے کے لئے ایسا فرمایا، یعنی : رمضان سے ایک دو دن قبل روزہ رکھنے کا اگر کسی کا معمول ہو تو وہ رکھ سکتا ہے ، نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ معمول کی عبادت اگر کسی سبب سے چھوٹ جائے تو اس کی قضا کر لینی چاہیے۔