حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ. ح وحَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ حَفْصٌ الْعَتَكِيُّ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ)دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهِيَ صَائِمَةٌ. فَقَالَ: أَصُمْتِ أَمْسِ ؟ قَالَتْ: لَا. قَالَ: تُرِيدِينَ أَنْ تَصُومِي غَدًا ؟ قَالَتْ: لَا. قَالَ: فَأَفْطِرِي.
ام المؤمنین جویریہ بنت حارث (رض) فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ان کے یہاں جمعہ کے دن تشریف لائے اور وہ روزے سے تھیں تو آپ ﷺ نے پوچھا : کیا تم نے کل بھی روزہ رکھا تھا ؟ کہا : نہیں، فرمایا : کل روزہ رکھنے کا ارادہ ہے ؟ بولیں : نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا : پھر روزہ توڑ دو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ٦٣ (١٩٨٦) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٨٩) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/ الکبری/ (٢٧٥٤) ، مسند احمد (٦/٣٢٤، ٤٣٠) (صحیح )