حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ يَعْنِي ابْنَ حَكِيمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ صِيَامِ رَجَبٍ. فَقَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ.
عثمان بن حکیم کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے رجب کے روزوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : ابن عباس (رض) نے مجھے بتایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ روزے رکھتے تو رکھتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہتے : افطار ہی نہیں کریں گے، اسی طرح جب روزے چھوڑتے تو چھوڑتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہتے : اب روزے رکھیں گے ہی نہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصیام ٣٤ (١١٥٧) ، (تحفة الأشراف : ٥٥٥٤) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/ الصیام ٤١ (٢٣٤٨، ٢٣٤٨) ، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٠ (١٧١١) ، مسند احمد (١/٢٢٦، ٢٢٧، ٢٣١، ٣٢٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ باب کئی نسخوں میں نہیں ہے، جب کہ مولانا وحیدالزماں کے نسخہ میں موجود ہے ، اور تبویب حدیث کے مطابق ہے، واللہ اعلم۔