حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْلَمَةَ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّ أَسْلَمَ أَتَتِ النَّبِيَّ (ﷺ)، فَقَالَ: صُمْتُمْ يَوْمَكُمْ هَذَا ؟ قَالُوا: لَا. قَالَ: فَأَتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ وَاقْضُوهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: يَعْنِي يَوْمَ عَاشُورَاءَ.
عبدالرحمٰن بن مسلمہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ قبیلہ اسلم کے لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے پوچھا : کیا تم لوگوں نے اپنے اس دن کا روزہ رکھا ہے ؟ جواب دیا : نہیں، فرمایا : دن کا بقیہ حصہ بغیر کھائے پئے پورا کرو اور روزے کی قضاء کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یعنی عاشوراء کے دن۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/ الصیام ٣٦ (٢٣٢٠) (تحفة الأشراف : ١٥٦٢٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢٩، ٣٦٧، ٤٠٩) (ضعیف) (اس کے راوی عبد الرحمن لین الحدیث ہیں )