حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ) كَانَ فِي سَفَرٍ، فَسَمِعَ لَعْنَةً فَقَالَ: مَا هَذِهِ ؟ قَالُوا: هَذِهِ فُلَانَةُ لَعَنَتْ رَاحِلَتَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): ضَعُوا عَنْهَا فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ، فَوَضَعُوا عَنْهَا، قَالَ عِمْرَانُ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهَا نَاقَةٌ وَرْقَاءُ.
عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ایک سفر میں تھے، آپ نے لعنت کی آواز سنی تو پوچھا : یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : فلاں عورت ہے جو اپنی سواری پر لعنت کر رہی ہے، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس اونٹنی سے کجاوہ اتار لو کیونکہ وہ ملعون ہے ١ ؎، لوگوں نے اس پر سے (کجاوہ) اتار لیا۔ عمران (رض) کہتے ہیں : گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں، وہ ایک سیاہی مائل اونٹنی تھی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/البر ٢٤ (٢٥٩٥) ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٨٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤٢٩، ٤٣١) ، سنن الدارمی/الاستئذان ٤٥ (٢٧١٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : علماء کا کہنا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایسا اس لئے کیا تاکہ جانور کا مالک آئندہ کسی جانور پر لعنت نہ بھیجے، گویا آپ ﷺ کا یہ فرمان اس مالک کے لئے بطور سرزنش تھا۔