حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): الرَّاكِبُ شَيْطَانٌ وَالرَّاكِبَانِ شَيْطَانَانِ وَالثَّلَاثَةُ رَكْبٌ.
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک سوار شیطان ہے اور دو سوار دو شیطان ہیں، اور تین سوار قافلہ ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الجھاد ٤ (١٦٧٤) ، (تحفة الأشراف : ٨٧٤٠) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الاستئذان ١٤ (٣٥) ، مسند احمد (٢/١٨٦، ٢١٤) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : ایک سوار کو شیطان کہا گیا کیونکہ اکیلا مسافر جماعت نہیں قائم کرسکتا، اور بوقت مصیبت اس کا کوئی معاون و مددگار نہیں ہوتا، اور دو سوار شیطان اس لئے ہیں کہ جب ان میں سے ایک کسی مصیبت و آفت سے دوچار ہوتا ہے تو دوسرا اس کی خاطر اس طرح مضطرب و پریشان ہوجاتا ہے کہ اس کی پریشانی کو دیکھ کر شیطان بےحد خوش ہوتا ہے، اور اگر مسافر تعداد میں تین ہیں تو مذکورہ پریشانیوں سے محفوظ رہتے ہیں۔