حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَةَ الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) أَمَّرَهُ عَلَى سَرِيَّةٍ قَالَ: فَخَرَجْتُ فِيهَا، وَقَالَ: إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا فَأَحْرِقُوهُ بِالنَّارِ، فَوَلَّيْتُ فَنَادَانِي فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ: إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا فَاقْتُلُوهُ وَلَا تُحْرِقُوهُ، فَإِنَّهُ لَا يُعَذِّبُ بِالنَّارِ إِلَّا رَبُّ النَّارِ.
حمزہ اسلمی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو ایک سریہ کا امیر بنایا، میں اس سریہ میں نکلا، آپ ﷺ نے فرمایا : اگر فلاں کافر کو پانا تو اسے آگ میں جلا دینا ، جب میں پیٹھ موڑ کر چلا تو آپ ﷺ نے مجھے پکارا، میں لوٹا تو آپ ﷺ نے فرمایا : اگر اس کو پانا تو مار ڈالنا، جلانا نہیں، کیونکہ آگ کا عذاب صرف آگ کے رب کو سزاوار ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٣٤٤١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٩٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : البتہ آگ سے کافروں کے کھیتوں، باغوں اور بستیوں کو جلانا ثابت ہے۔