حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ، عَنْ كُلَيْبِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ هَانِئِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْحَبِيبِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ،عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) قَامَ يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ فَقَالَ: إِنَّ عُثْمَانَ انْطَلَقَ فِي حَاجَةِ اللَّهِ، وَحَاجَةِ رَسُولِ اللَّهِ، وَإِنِّي أُبَايِعُ لَهُفَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) بِسَهْمٍ، وَلَمْ يَضْرِبْ لِأَحَدٍ غَابَ غَيْرَهُ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے یعنی بدر کے دن اور فرمایا : بیشک عثمان اللہ اور اس کے رسول کی ضرورت سے رہ گئے ہیں ١ ؎ اور میں ان کی طرف سے بیعت کرتا ہوں ، پھر رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے حصہ مقرر کیا اور ان کے علاوہ کسی بھی غیر موجود شخص کو نہیں دیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٦٦٨٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : عثمان (رض) بدر میں شریک نہیں ہو سکے، کیونکہ آپ کی اہلیہ رقیہ (رض) جو رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی ہیں ان ایام میں سخت بیمار تھیں اسی وجہ سے ان کی دیکھ ریکھ کے لئے انہیں رکنا پڑگیا تھا۔