حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ (ﷺ) فِي سَفَرٍ، فَلَمَّا ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ قَالَ: أَمْهِلُوا حَتَّى نَدْخُلَ لَيْلًا لِكَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ، وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ الزُّهْرِيُّ: الطُّرُوقُ بَعْدَ الْعِشَاءِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ لَا بَأْسَ بِهِ.
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے، جب ہم بستی میں جانے لگے تو آپ ﷺ نے فرمایا : ٹھہرو ہم رات میں جائیں گے، تاکہ پراگندہ بال والی کنگھی کرلے، اور جس عورت کا شوہر غائب تھا وہ زیر ناف کے بالوں کو صاف کرلے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : زہری نے کہا : ممانعت عشاء کے بعد آنے میں ہے، ابوداؤد کہتے ہیں : مغرب کے بعد کوئی حرج نہیں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/النکاح ١٢٢ (٥٢٤٧) ، صحیح مسلم/الإمارة ٥٦ (٧١٥) ، (تحفة الأشراف : ١٩٤١٨، ٢٣٢٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٢٩٨، ٣٥٥، ٣٩٦) (صحیح )