حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ. ح وحَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْنٍ، عَنْ عَامِرٍ أَبِي رَمْلَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مِخْنَفُ بْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ: وَنَحْنُ وُقُوفٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) بِعَرَفَاتٍ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُضْحِيَّةً وَعَتِيرَةً، أَتَدْرُونَ مَا الْعَتِيرَةُ هَذِهِ الَّتِي يَقُولُ النَّاسُ الرَّجَبِيَّةُ ؟، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْعَتِيرَةُ مَنْسُوخَةٌ هَذَا خَبَرٌ مَنْسُوخٌ.
مخنف بن سلیم (رض) کہتے ہیں کہ ہم (حجۃ الوداع کے موقع پر) رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا : لوگو ! (سن لو) ہر سال ہر گھر والے پر قربانی اور عتیرہ ہے ١ ؎ کیا تم جانتے ہو کہ عتیرہ کیا ہے ؟ یہ وہی ہے جس کو لوگ رجبیہ کہتے ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عتیرہ منسوخ ہے یہ ایک منسوخ حدیث ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الأضاحي ١٩(١٥١٨) ، سنن النسائی/الفرع والعتیرة ١(٤٢٢٩) ، سنن ابن ماجہ/الأضاحي ٢ (٣١٢٥) ، (تحفة الأشراف : ١١٢٤٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢١٥، ٥/٧٦) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : عتیرہ وہ ذبیحہ ہے جو اوائل اسلام میں رجب کے پہلے عشرہ میں ذبح کیا جاتا تھا ، اسی کا دوسرا نام رجبیہ بھی تھا، بعد میں عتیرہ منسوخ ہوگیا۔