حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْعُشَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا تَكُونُ الذَّكَاةُ إِلَّا مِنَ اللَّبَّةِ أَوِ الْحَلْقِ ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): لَوْ طَعَنْتَ فِي فَخِذِهَا لَأَجْزَأَ عَنْكَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا لَا يَصْلُحُ إِلَّا فِي الْمُتَرَدِّيَةِ وَالْمُتَوَحِّشِ.
ابوالعشراء اسامہ کے والد مالک بن قہطم (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ذبح سینے اور حلق ہی میں ہوتا ہے اور کہیں نہیں ہوتا ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر تم اس کے ران میں نیزہ مار دو تو وہ بھی کافی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ متردی ١ ؎ اور متوحش ٢ ؎ کے ذبح کا طریقہ ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصید ١٣ (١٤٨١) ، سنن النسائی/الضحایا ٢٤ (٤٤١٣) ، سنن ابن ماجہ/الذبائح ٩ (٣١٨٤) ، (تحفة الأشراف : ١٥٦٩٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٤) ، دی/ الأضاحي ١٢ (٢٠١٥) (منکر) (اس کے راوی ابوالعشراء مجہول اعرابی ہیں ان کے والد بھی مجہول ہیں مگر صحابی ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی جو جانور گرپڑے اور ذبح کی مہلت نہ ملے۔ ٢ ؎ : ایسا جنگلی جانور جو بھاگ نکلے۔